بنگلورو،27؍نومبر(ایس او نیوز) ریاست میں کابینہ میں توسیع یا ردوبدل اور قیادت میں تبدیلی کو لے کر بی جے پی میں الجھن پیدا ہوگئی ہے۔اس الجھن پر قابو پانے وزیراعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا نے کل شام 4بجے بی جے پی کے ارکان پارلیمان کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔ریاست میں بی جے پی اقتدار پر آئے ڈیڑھ سال کا عرصہ گزر چکا ہے اس دوران وزیراعلیٰ ایڈی یورپا نے اب پہلی بار پارٹی کے ارکان پارلیمان کااجلاس طلب کیا ہے۔ کل شام وزیراعلیٰ کے رہائشی دفتر کرشنا میں یہ اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ اس اجلاس میں شرکت کرنے ریاست کے تمام بی جے پی ارکان پارلیمان کو دعوت دے دی گئی ہے۔کہاجارہا ہے کہ اس اجلاس میں وزیراعلیٰ مرکز سے ریاست کو ملنے والی امداد التوا میں پڑے اسکیموں، مرکز سے جاری ہونے والی بقیہ رقم کے علاوہ ریاست کے مختلف ترقیاتی پروجکٹوں پر ارکان پارلیمان سے تبادلہ خیال کریں گے۔اس کے ساتھ ساتھ آئندہ ہونے والے گرام پنچایتوں اور بلدی اداروں کے انتخابات کے تعلق سے بھی بات چیت کریں گے۔ کہاجارہا ہے کہ اس اجلاس کے آخر میں وزیراعلیٰ قیادت میں تبدیلی سے متعلق ہونے و الی الجھن کو سلجھانے کے سلسلہ میں بھی پارٹی کی مرکزی قیادت سے بات کرنے کا بھی ارکان پارلیمان کو مشورہ دیں گے۔ریاست میں حکمران پارٹی میں قیادت کا مسئلہ کافی سنجیدہ بن گیا ہے۔ایڈی یورپا کا مخالف گروپ یہ کوشش کررہا ہے کہ کسی بھی صورتحال میں ایڈی یورپا کو قیادت سے ہٹادیا جائے۔ کل اجلاس میں شرکت کرنے والے تمام ارکان پارلیمان ایڈی یورپا کے حق میں نہیں ہوں گے یہ خوف بھی ایڈی یورپا کو ستا رہا ہے۔حال ہی میں شمالی کرناٹک کے چند اضلاع میں سیلاب سے زبردست نقصان ہوا ہے۔اس کے لئے ریاستی حکومت نے مرکز سے جتنی امداد طلب کی تھی وہ حاصل نہیں ہوئی۔جی ایس ٹی معاوضہ کی رقم بھی باقی ہے۔ریاست کے کئی اہم آبپاشی کے پراجکٹس، محکمہ جنگلات اور ماحولیات کے پراجکٹوں کے لئے امداد، مہادائی، کرشنا،میکے داٹو وغیرہ ایسے کئی پراجکٹوں کو مرکز سے امداد نہ ملنے سے التوا میں پڑے ہیں۔ان پراجکٹوں کے لئے امداد حاصل کرنے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرنے وزیراعلیٰ ارکان پارلیمان سے کہیں گے۔کل کا اجلاس طلب کرنے کا اہم مقصد قیادت کو بچانا ہے۔اس میں ایڈی یورپا کہاں تک کامیاب ہوں گے یہ ابھی سے کہنا قبل از وقت ہوگا۔ ویسے موجودہ سیاسی صورتحال کے دوران کل وزیراعلیٰ اجلاس طلب کرنے سے پارٹی میں ہلچل مچی ہوئی ہے۔